بھٹکل 18/ ستمبر (ایس او نیوز) موجودہ دور میں تعلیمی میدان اپنی وسعت کے ساتھ اتنا ہی مسابقت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ امیرو رئیس کی اولاد کے لئےرہنماؤں کی کوئی کمی نہیں ہے، مگر غریب خاندان کے طلبا جس راستے پر چل پڑتے ہیں اسی کو صحیح مان کر اسی کے ہوجاتے ہیں۔ کئی ایک بنیاد کا شعور نہیں ہونے سے مجبوری میں چلے جاتے ہیں تو بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو کھڑے ہونے کی امید لے کر کامیابی کی منزل تک جا پہنچتے ہیں ، ایسے ہی طلبا میں سے ایک بھٹکل شرالی کا ایک طالب علم کمار بھی شامل ہواہے۔
اس ہونہار لڑکے کانام کمار ہونپا نائک ہے، والد ہونپا نائک کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ کمار جنتا ودیا لیہ میں ایس ایس ایل سی ، پی یوسی میں پاس ہونے کے بعد آگے کیا کرنا ہے کچھ سمجھ نہیں پارہاتھا، اسی دھن میں آئی ٹی آئی میں داخلہ لیا، آٹوموبائیل شعبہ میں ڈگری لے کر کام کی تلاش میں نکلا ، آخر کار گوا کی ایک آٹو انڈسٹریز میں ملازم ہوا۔ سماجی سطح پر جس طرح کئی ایک کو مسائل کا سامنا ہوتاہے کچھ ایسے مسائل کمار کے سامنے بھی تھے۔ کھاناپینا، رہائشی اپنی سب ضروریات 7-8ہزارروپیوں میں ہی پوری کرنی تھیں، اپنے گھر کو کچھ رقم بھیجنے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالیں تو خالی ہاتھ۔ گاؤں پہنچا کمار کو پھر بے روزگاری نے زندگی کے دہرائے پر لاکھڑا کی۔ کچھ عرصہ بتانے کے بعد کمار بس کے ذریعے بنگلورو کا رخ کیا۔ بنگلورو میں شرالی علاقہ کے اکثر نوجوانوں کی طرح کمار بھی ہوٹل میں بیرے کاکام شروع کیا۔ بنگلورو تپےسندرا کے شری کرشنا بھون ہوٹل میں کمار سپلائیر بنا!یہاں کے اکثر لوگوں کا ماننا ہے کہ ہوٹل میں کام کریں گے تو کھاناپینا اور سونا مفت میں ہونےسے جیب میں کچھ رقم باقی ہوتی ہے ، کمار کا ذہن بھی کچھ اس طرح ہی سوچ رہا تھا۔ اپنے کام کے دوران ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک اشتہار پر نظر گری تو اس کی طرف راغب ہوا، اور کچھ تعلیم حاصل کرنے کی امید پھر جاگ اٹھی، ہوٹل مینجر روی کا تعاون حاصل کرکے مشہور سینٹ جوسف انڈین انسٹی ٹیوٹ میں ڈپلوما اِن ہوٹل مینجمنٹ کے شعبہ میں داخلہ لیا۔ چونکہ معاشی طورپر کمزور تھا جس کی بنیاد پر اس کی فیس میں بھی کچھ کمی کی گئی ۔ کالج میں جب بھی والدین و سرپرستوں کی میٹنگ ہوتی تو ہوٹل مینجر روی ہی شریک ہوتے۔ متعلقہ شعبہ میں کل 87طلبا نے داخلہ لیا تھا۔
صبح سویرے کالج جانے والا کمار شام 30-4بجے لوٹتا۔ اور شام 6بجے سے ہوٹل میں بھی مطالعہ کرتے ہوئے رات 30-10بجے تک ہوٹل میں بیرے کاکام کرتا۔ کام، پڑھائی،مطالعہ،کتابیں تھک جاتا آنکھیں بند کر بیٹھ جاتا۔ امتحانات کے دوران اپنےمطالعہ کے لئے کبن پارک کی لائبریری کا استعمال کرتا۔ ہوٹل میں بیرے کا کام کرتے ہوئے کمار ایک سال میں ڈپلوما اِن ہوٹل مینجمنٹ کور س مکمل کیا۔ یہاں سب سے بڑی خوشی کی بات یہ ہےکہ کمار پورے کالج میں ٹاپ میں کیا ہے.
اور اس کو منزل آسمانوں میں نہیں قدموں میں نظر آرہی ہے البتہ چھلانگ اونچی لگانے کی ہے یعنی انڈین ائیر لائن میں ملازمت کی کوشش میں ہے۔ راستے کی تلاش میں سرگرداں کمار کے سامنے آج اچانک کسی نے چراغ روشن کیا ہے، ہم اس موقع پر اس کا مستقبل بھی روشن ہونے کی تمناؤں کے ساتھ خاتمہ کرتے ہیں۔
اپنے بیٹے کی کامیابی پر کمار کی ماں دیوی نائک نے ساحل آن لائن سے بہت ہی خوشی و مسرت سے بات کرتے ہوئے کہاکہ کمار کا بھائی دبئی میں چھوٹا موٹا کام کرتاہے، اس کی کوئی بڑی تنخواہ تو نہیں ہے، میری تین لڑکیاں ہیں، دو کی شادی کرنے تک ہی وہ کنگال ہوگیاہے، اور ایک کی شادی کرنی ہے، اگر کمار کوکہیں روزگار ملتاہےتو ہمارے لئے یہی کافی ہے۔